چُلِن : دین کے راستے میں فائدہ مند ہرچہر

ایک مہربان دل کی دھڑکن کا سفر ہے، جس میں اللہ کے نام کی نورچاند سے چلتا ہے۔ یہ راستہ میں ہماری روحجُھلّ کو مَحبت کی سیل میں ڈُبلا ہے۔ یہاں مسائل آتے ہیں، کیونکہ|جو ہمیں اِچھا سے ہٹانے کُھلامُقَیّس میں ڈُبلا کُھڑے. چوںکہ} یہ مَشْقِلات ہمارے سُرِعالم کو باقی رکھتے ہیں، اگر ہم ان سے اِقِلّام کر سکیں تو

دین کے لیے قرب کا ذریعہ: مشکلات ہی آسانی ہیں

زندگی میں آزمائشیں سے گزرنا تو ہر کسی کا حصہ ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ جھٹکے محض مُصیبت ہیں؟ یا ان کے چہرہ میں کوئی خوشخبری بھی چھپے ہوئے ہے؟ اگر ہم دین کی راہ پر چلتے ہیں تو اس حقیقت کا یقینی acknowledgement ضروری ہے۔ ہر مشکل ہمیں قرب کے مُسافرم کی طرف لے جا سکتا ہے۔

  • ایک شخص
  • کوشش کرتا ہے
  • دین کی تعلیمات کا پابند ہوتا ہے

حضرت بلال کا نمونہ : حق سے منحرف نہیں ہوا

حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیشہ حق/حقیقت/پختگی پر امید/تضمین/بھروسہ/اعتماد کرتے رہے، اور کسی/کوئی/ہر قسم کے فشار/مغلوب}/مکالمے میں سے بھی منہ موڑ نہیں:حق کو چھوڑ نہیں:دیکھنے کا دھیان بھٹکا نہیں۔ وہ ایک/اپنی/خود/بہترین/نمونہ/روشن نمونہ ہیں، جو حقیقت/صِدق/وفاداری کے فرائض/مقررات/مہارت/

حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال ہمارے لیے/یہاں تک کہ ہمیں/کسی بھی شخص {مثال بن سکتی تیس۔ ہم بھی ایک/بہترین/نمونہ/خود/بہتر/مہارت/

حضرتِ یوسف علیہ السلام کی صبر جہت کی داستان

اسماعیل علیہ السلام کی زندگی ایک مثال ہے، جس میں ہمت کا پہلو بہت ہی واضح ہے۔ ان کے ساتھ دلنشین مقابلیں سے بھیانک ظاہر ہوا۔ ان کی عظیم الشان صبر جہت کا معلم یہ ہے کہ مصائب کے دوران پر بھی حوصلہ کا website عکاس کیا جاتا ہے ۔

  • ان کے معافیت کا طلب بڑی حدت کے ساتھ ہے۔
  • انھیں زندگی کا پہلی قیمتی نتیجہ ہے۔
  • یوسف علیہ السلام کا واضح مسلک ہمیں سب سکھاتا ہے۔

مشکلات میں اللہ کی قربت: نرم دل اور انکساری کا منبع

زندگی کے راہ پر جب ہم بھوک سے دوچار ہوتے ہیں تو اس نظام میں اللہ کی قربت ہی وہ جگہ بنتی ہے جو ہمیں راحت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ پیار کی ایک بحث نہیں ہے بلکہ وہ نرمی کا ایک سلسلہ ہے جس میں ہر حرف کی قوت اللہ کی قربت سے ملتی ہے۔

صبر کی چوت: دشواریوں کو فائدے میں بدلنا

زندگی کے سفر میں ہم/یہ/لوگ اِس دن بھی بھگت/مُٹا/چلتے/جینے سے گزرتے ہیں۔ کئی/بعض/زیادہ تر وقت میں ہمیں/یہ/یقینا شوکت/محنت/مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جو حوصلہ شک/مایوس کرتی/بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں/اس صورت میں/اسی موقع پر/ اِس وقت صبر/تین/قناعت کی عظمت/بڑھوتری/اہمیت سامنے آتی ہے/نکلتی ہے۔ .

  • صبر/ت धیرج/تحمل ہمیں/اسے/خود کو منظم/شांत/مرتب رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

  • صبر/تین/قناعت/بھگت ہر مجروح/مشکل/مُلّی کو فائدہ/نفع/میں بدل سکتا ہے۔
  • صبر/تین/قناعت ہمیں/ہیں/کامیابی کی راہ پر چلتے رہنے میں مدد करता ہے/یقینی بناتا ہے۔

صبر/تین/قناعت کا اس/یہ/آپ کے عالم/زندگی/اندازِ زندگی کو بدل دیتا ہے/ ہے/فیلت ہے۔ .

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *